پاکستان کیساتھ جھڑپ کے دوران اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والےبھارتی فضائیہ کے افسر کو سخت سزا سنا دی گئی


  نئی دہلی(سی پی پی )پاکستان کے ساتھ جھڑپ کے دوران اپنا ہیلی کاپٹر گرانے پر بھارتی افسر کو برطرف کر دیا گیا،اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ لڑائی کے دوران بھارتی فضائیہ نے اپنا ہی ہیلی کاپٹر گرا دیا تھا جس پر اب بھارتی فضائیہ کے افسر کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا ہے۔27 فروری کو فضائی جھڑپ کے دوران بھارتی فضائیہ کا ہیلی کاپٹر فرینڈلی فائر میں تباہ ہوا تھا۔بھارتی میڈیا کے مطابق فرینڈلی فائر سے تباہ ہیلی کاپٹر میں سوار 6 ائیر مین بھی مارے گئے تھے۔
کورٹ آف انکوائری کی تحقیقات کے دوران سرینگر ائیر بیس کے ائیر آفیسر کمانڈنگ کو ہٹا دیا گیا تھا۔ واضح رہے 27 فروری کے روز مقبوضہ کشمیر میں کریش کر جانے والے بھارتی فوجی ہیلی کاپٹر کے واقعے کی رپورٹ سامنے آئی تھی۔رپورٹ نے بھارتی فضائیہ کا دنیا بھر میں خوب مذاق بنوا یا۔رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 27 فروری کو بھارتی فوجی ہیلی کاپٹر کو کوئی حادثہ پیش نہیں آیا تھا، 
بلکہ بھارتی فضائیہ نے اپنی ہی فوج کے ہیلی کاپٹر کو مار گرایا تھا۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بھارت کے مگ 21 جنگی طیارے نے ہیلی کاپٹر کو پاکستان کا ہیلی کاپٹر سمجھ کر مار گرایا تھا، واقعے میں 6 بھارتی فوجی افسر ہلاک ہوئے تھے۔ہیلی کاپٹر ریسکیو مشن پر تھا جب اسے اپنی ہی فضائیہ کے مگ 21 جنگی طیارے نے مار گرایا تھا۔ اسی واقعے کے بعد بھارتی فضائیہ کے چیف آف ویسٹرن کمانڈ کو فوری عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ 27 فروری کے روز ہی پاکستان نے جوابی کاروائی کرتے ہوئے بھارت کے 2 جنگی طیارے مار گرائے تھے۔ پاکستان کے جے ایف 17 تھنڈر نے ایک مگ 21 جبکہ ایک ایس یو 30 جنگی طیارہ مارگرایا تھا۔ جبکہ اس کاروائی کے دوران ایک بھارتی پائلٹ ابھی نندن گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں جنگ کی صورتحال کو ختم کرنے کیلئے وزیراعظم عمران خان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وزیراعظم عمران خان کے اعلان کے بعد بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو رہا کر دیا گیا تھا۔
پاکستان کیساتھ جھڑپ کے دوران اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والےبھارتی فضائیہ کے افسر کو سخت سزا سنا دی گئی پاکستان کیساتھ جھڑپ کے دوران اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والےبھارتی فضائیہ کے افسر کو سخت سزا سنا دی گئی Reviewed by Walliam Marry on 5:20 AM Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.