سکیورٹی فورسز کو متنازعہ بنا دیا،شمالی علاقے میں پیش آنے والے واقعہ پر حکومت کہیں نظر نہیں آئی، تم کیوں سامنے نہیں آئے؟مریم نواز ننے حکومت پر سنگین سوال اُٹھادیئے


  لاہور(این این آئی) مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ اگر نوازشریف جیل سے باہر ہو تو نالائق اعظم کی حکومت ایک دن نہیں چل سکتی، تمہاری حیثیت ایک کٹھ پتلی او رمہرے کی ہے اور تم آنکھ کا اشارہ دیکھتے ہو،کہتے ہو این آر او نہیں دوں گا، بتاؤ تم سے این آر او مانگ کون رہا ہے،جو ہر بات کیلئے کسی کا محتاج ہو وہ کسی کو کیا این آر او دے گا، تم عوام اور ووٹ کے بل بوتے پر نہیں بلکہ سازش کر کے آئے ہو، تمہیں نواز شریف کو جیل میں رکھنا پڑتا ہے،
 پارٹی مریم نواز اور حمزہ شہباز کو نائب صدور کے عہدے دیتی ہے تو تمہاری ٹانگیں کانپنا شروع ہو جاتی ہیں، میچ فکس کر کے عدالت کی طرف کیوں بھاگتے ہوئے آؤ میدان میں مقابلہ کرو، نالائقوں نا اہلوں کو حکومت دو گے تو ملک کا یہی حال ہوگا،ساز باز کر کے جعلی صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ لیتے ہو،شمالی علاقے میں پیش آنے والے واقعہ پر حکومت کہیں نظر نہیں آئی، یہ عسکری نہیں سیاسی فیصلہ تھا، اگر تم کہتے ہو کہ ریاست پر حملہ ہوا تو ریاست کا سربراہ کون ہوتا ہے؟، تم کیوں سامنے نہیں آئے اور سکیورٹی فورسز کو تنہا جواب دینا پڑا او رتم نے اسے متنازعہ بنا دیا۔ ان خیالات کا اظہارا نہوں نے یوم تکبیر کے حوالے سے ماڈل ٹاؤن میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر حمزہ شہباز، رانا ثنا اللہ خان، پرویز ملک، شائستہ پرویز ملک سمیت اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور مرد و خواتین کارکنوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ مریم نواز نے کہا کہ میں شرکاء کو دو مرتبہ سلام پیش کرتی ہوں ایک آپ کو اپنی بہن مریم نواز اور دوسرا سلام کوٹ لکھپت جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید نواز شریف کا سلام ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کی زندگیوں میں کبھی کبھی ایسے لمحات آتے ہیں جب کوئی جراتمندانہ بروقت او ربہادر فیصلہ قوم کی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے تقدیر سنوار دیتا ہے۔
 یہ جراتمندانہ فیصلہ کرنے والا کون تھا، بہادر لیڈر کون تھا جس نے 28مئی 1998ء کو چھ دھماکے کر کے پاکستان کے مستقبل، سلامتی اور دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔ آج ملک او ر قوم کا محسن، پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والا، دنیا کے نقشے پر پاکستا ن کو ایٹمی قوت کے طور پر متعارف کرانے والا کہاں بیٹھا ہے، آج وہ کھوٹ لکھپت جیل میں سلاخوں کے پیچھے ہے۔ ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے پر ذوالفقار علی بھٹو کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے مقابلے میں چھ دھماکے کرنے والا نواز شریف آج ستر سال کی عمر میں بیمار ہو کر جیل میں پڑا ہے،نوازشریف ملک و قوم کی خاطر جیل کے پیچھے ہے۔ نواز شریف کو دھماکے نہ کرنے کے لئے پانچ ارب ڈالر کی پیشکش ہوئی تھی،امریکی صدر کلنٹن نے پانچ ٹیلیفون کئے کہ دھماکے نہ کریں لیکن نواز شریف نے نہ امریکی صدر کی کالوں کی پرواہ کی اور نہ پانچ ارب ڈالر کو خاطر میں لایا او رعوام کی امنگوں کے مطابق جواب دیا۔انہوں نے کہا کہ آپ کہتے ہو میں فون کرتا ہوں مودی میرا فون نہیں سنتا لیکن نواز شریف نے تو کبھی ایسا گلہ نہیں کیا کہ میں فون کرتا ہوں تو وہ فون نہیں سنتا، تمہارا فون کیوں نہیں سنا جاتا،بیرون ممالک کے سربراہ کیوں تم سے بات نہیں کرتے، دنیا کیوں تمہیں نہیں بلاتی کیونکہ تم چور دروازے سے حکومت میں آئے ہو دنیا کی نظر میں تمہاری عزت نہیں۔تمہاری حیثیت ایک کٹھ پتلی او رمہرے کی ہے اور تم اشاروں کو دیکھتے ہو، تم ووٹ چوری کر کے اقتدار میں آئے اس لئے دنیا کا کوئی ملک تمہیں عزت دینے کو تیار نہیں۔تم کہتے ہو مودی میرا فون نہیں سن رہا تھا لیکن وہی مودی چل کر یہاں آیا تھا،واجپائی نے چل کر دھرتی پر قدم رکھا تھا۔ تم نے جب یہ کہا کہ مودی فون نہیں سن رہا تو ہم نے تمہیں مودی کا یار نہیں کہا،ہم پاکستانی ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہمسایہ ممالک سے دوستی ہو او رجنگ نہ لڑی جائے ہمیں جنگیں عو ام کی خوشحالی اور بہتری کے لئے لڑنی چاہئیں، جنگ معاشی میدان میں لڑیں،ہم تمہیں مودی کا یار نہیں کہیں گے،ہم دنیا کا امن چاہتے ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ ہم 28مئی کو یوم تکبیر منا رہے ہیں لیکن ایٹمی قوت ہونے کے باوجود آج دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر کیوں مجبور ہیں؟۔ نالائق اعظم کشکول لے کر کیوں گھوم رہا ہے۔ آج نالائق اعظم کی جعلی حکومت ہے اور اسی لئے دنیا کا کوئی سربراہ یہاں نہیں آتا اور نہ جعلی اعظم کو بلاتا ہے کہیں کہ ہم سے پیسے نہ مانگ لے اور دوسری طرف نواز شریف ہے کہ ایٹمی دھماکے کرنے پر کڑیاں پابندیاں لگی لیکن اس نے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا یا تھا،معیشت کو گرنے نہیں دیا، ایک تم ہوبھکاری اعظم جس نے چھ ارب ڈالر کی خاطر ملک کو آئی ایم ایف کے آگے گروی رکھ دیا ہے۔ یہ اچنبے کی بات نہیں ہے، جب ملک نا لائقوں اور نا اہلوں کے حوالے کر دو گے تو یہی حال ہوگا۔ تم کرکٹ کھیلتے کھیلتے سازشوں سے اقتدار میں میں آگئے ہو،نالائقوں نا اہلوں کو حکومت دو گے تو ملک کا یہی حال ہوگا۔ تمہاری بقول گزشتہ حکومت میں چوری ہو رہی تھی لیکن اس وقت مہنگائی کیوں نیچے آرہی تھی،سڑکوں کے جال کیوں بچھ رہے تھے، تم نے ایک ایک پاکستانی پرقرضوں کا بوجھ لاد ھ دیا ہے لیکن ملک میں ایک اینٹ بھی نہیں لگائی۔ جب ملک کو لوٹ کر کھایا جارہا تھا اس وقت بجلی کی قیمتیں کیوں نیچے آرہی تھیں، بجلی کے کارخانے کیوں لگ رہے تھے،سرمایہ کاری کیوں آرہی تھی، موٹرویز کا جال کیوں بچھ رہا تھا، پورے خطے میں سٹاک ایکسچینج اوپر جارہی تھی،زر مبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے تھے۔ تم کہتے تھے کہ جب میں آؤں گا تو لوگ میری شکل دیکھ کر ٹیکس دیں گے لیکن ہمارے دور میں ٹیکس کولیکشن دو گنا ہو گئی لیکن آج کس سطح پر ہے۔ او راب تو بقول تمہارے جعلی صادق اور امین کی حکومت ہے، ساز باز کر کے تمہیں جعلی صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ دلایا گیا کہ جعلی امینوں کی حکومت ہے لیکن آج بجلی کی قیمت کہاں پہنچ گئی ہے، سبزیوں اوراشیائے خوردونوش کی قیمتیں کہاں پہنچ گئی ہیں۔نالائق اعظم صرف نواز شریف کے خلاف میٹنگز کرتا ہے، جب انسان سے گنا سر زد ہو جاتا ہے تو انسان کے دل سے سکون اٹھ جاتا ہے لیکن جو چور دروازے سے آئے ووٹ چوری کر کے آئے دھاندلی سے آئے وہ خوف میں جیتا ہے وہ خوف میں سانس لیتا ہے۔ تم کہتے ہو این آر نہیں دو ں گا، تم سے این آر او مانگ کون رہا ہے جو خود ہر بات پر کسی کا محتاج ہو، کسی کی آنکھ کا اشارہ دیکھے وہ کسی کو کیا این آر او دے گا ا س سے کون کیا مانگے گا۔ میں نالائق اعظم کو بتانا چاہتی ہوں کہ تمہاری یہ عزت ہے کہ تمہار وزراء کی بیٹنگ آڈر کو ایک لمحے میں درہم برہم کر دیا جاتا ہے اور تم منہ دیکھتے رہ جاتے ہو او رایک لفظ بھی نہیں بول سکتے۔ تم قوم کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات نہیں کر سکتے کیونکہ تم عوام اور ان کے ووٹوں کے بل بوتے پر نہیں آئے بلکہ سازش کر کے آئے ہو، تمہیں نواز شریف کو جیل میں رکھنا پڑتا ہے،اگر نواز شریف باہر ہو تو تمہاری حکومت ایک دن نہیں چلتی، تم خوف میں جیتے ہو۔ پارٹی مریم اور حمزہ کو نائب صدور کا عہدہ دیتی ہے تو تمہاری ٹانگیں کانپنا شروع ہو جاتی ہیں تم پھر میچ فکس کر کے عدالت کی طرف بھاگتے ہو۔ عدالتوں میں کیوں جاتے ہو، ہم سے میدان میں مقابلہ کرو،آؤ عدالتوں کے پیچھے کیوں چھپتے ہو،اداروں کے پیچھے کیوں چھپتے ہوئے، مسلم لیگ (ن) کے شیروں کا میدان میں مقابلہ کرو۔
 تم اپنی تقریروں، دھرنوں، انٹرویوز میں نواز شریف کا ذکر کرتے ہو، جعلی حکومت کو خواب میں بھی نواز شریف آتا ہے لیکن وہ جیل میں بیٹھا ہے۔ تمہارے سر پر نواز شریف سوار ہے۔جتنا تم نواز شریف کے بارے میں سوچتے ہو، مریم اور حمزہ کے بارے میں سوچتے ہو اتنی توجہ ملک کے مسائل پر دی ہوتی تو ملک کا آج یہ حال نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ چار روز قبل شمالی علاقے میں حادثہ ہوا اور کچھ لوگ جاں بحق ہوگئے ملک میں کسی کی حکومت ہے جو کہیں نظر نہیں آتی ہو۔ جعلی اعظم کی طرف سے ایک بھی بیان نہیں آیا، فاٹا اب خیبر پختوانخواہ کا حصہ ہے کیا وہاں خیبر پختوانخواہ حکومت نظر آئی، یہ عسکری نہیں بلکہ سیاسی فیصلہ تھا۔ ریاست پر حملہ ہوا تھا تو ریاست کا سربراہ کون ہوتا ہے ریاست کے سربراہ تھے تو تم کہاں تھے،کیوں سکیورٹی فورسز کو تنہا جواب دینے کیلئے چھوڑ دیا اور اسے متنازعہ بنا دیا،تم پیچھے غائب رہے،قوم تم سے اس کا جواب مانگتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو اراکین قومی اسمبلی کا معاملہ تھا تو لیڈ ر آف دی ہاؤس کہاں بیٹھا ہوا ہے۔ جب ضرب عضب ہوا تو نواز شریف نے قوم کو افواج کے پیچھے کھڑا کیا،رد الفساد میں حکومت اور قوم فوج کے پیچھے تھی،یہ کیسی جمہوری حکومت ہے کہ اس نے ایک ادارے کو جواب دینے کے لئے کھڑا کر دیا ہے اور خود غائب ہے۔تم کہاں سو رہے ہو تم جعلی ہی سہی لیکن نالائق اعظم تو ہو۔ مریم نوز نے کہا کہ جو ملک میں کام کرے، خدمت کرے،ملک کو اندھیروں سے نکالے اسے سزا دی جاتی ہے اور جو پاکستان کو ہر محاذ پر ناکام کرے وہ جزا پائے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے بغیر ہم ادس ہیں۔اس موقع پر مریم نواز نے پاکستان زندہ باد اور نواز شریف زندہ باد کے نعر ے بھی لگوائے۔
سکیورٹی فورسز کو متنازعہ بنا دیا،شمالی علاقے میں پیش آنے والے واقعہ پر حکومت کہیں نظر نہیں آئی، تم کیوں سامنے نہیں آئے؟مریم نواز ننے حکومت پر سنگین سوال اُٹھادیئے سکیورٹی فورسز کو متنازعہ بنا دیا،شمالی علاقے میں پیش آنے والے واقعہ پر حکومت کہیں نظر نہیں آئی، تم کیوں سامنے نہیں آئے؟مریم نواز ننے حکومت پر سنگین سوال اُٹھادیئے Reviewed by Walliam Marry on 9:57 PM Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.