speech on 14 august in urdu for students with poetry

Speech on 14 august in urdu for students with poetry, speech on 14 august in urdu with poetry, 14 august speech in urdu, 14 august speech in urdu download, 14 august speech in urdu 2019, youm e azadi essay in urdu with poetry, speech on 14 august in urdu lyrics, 14 august speech in english, short speech on 14 august in english for students,

14 August Speech in English:

Respected sir and my compatriots!

speech on 14 august in urdu for students with poetry

Our homeland Pakistan is not like other lands of the world, which are inherited to its citizens but Pakistan is the country, for which Muslims of Combined India served their bones as bricks and their blood as water, to set the bases for Pakistan.

Only those can judge the true value of this inestimable creation who himself has participated in building this country, and sacrificed his wife, children, sisters, brothers and all his blood relations. To achieve this sacred land, millions of Muslims met martyrdom. Countless children were killed in front of their mothers and lots of families were burnt inside their houses. Many virtuous women jumped into wells and canals and costed their lives just to build up Pakistan. Countless
children got orphaned and missed their parents for whole their lives.

Valleys of Pakistan are containing congruences of the paradise. Beautiful green landscapes and spacious farms are spitting the gold. We also see that we are rich of every kind of freedom and facilities but do not ever forget that in making this come true, there is part of the blood of Tipu Sultan, vision of Sir Syed and thoughts of Allama Iqbal, untiring struggles of Quaid e Azam Muhammad Ali Jinnah and endeavors of many other companions of M. A. Jinna. And everyone was aligned to achieve a single goal – a free and independent Islamic State: Pakistan.

14 AUGUST 1947 was the auspicious day of Islamic history when Pakistan, the God-Gifted country came into being. Unity of Muslims and dedication and heartiness of Quaid e Azam were the things that paved the way of creation of this country. Hindus and Britishers deceitfully campaigned, created hindrances against the movement of Pakistan but Alhamdolillah Pakistan had to be done and It appeared on the map of the world. At that time, there was only one slogan of
Muslims: Le Ke Rahen Ge Pakistan, Ban Ke Rahe Ga Pakistan.

Enemies vigorously ridiculed the demand of Quaid e Azam for a separate free land, though the demand of Pakistan was based on right, reality and truth and right finally prevails. Reality, if couldn’t get acclaimed sooner or later, it is not a reality but if it does then that reality is a REALITY. And all filthy intentions of enemies went in vain before the reality of Pakistan and today Pakistan is known as one of the great nations in the world.

My compatriots!
We have to love Pakistan. We admire the founders and the dreamer and thinker of Pakistan and we also pray for martyrs who lost their lives in movement of Pakistan. Those who sacrificed their homes and families against British rulers. They didn’t care for their children and accepted the hardships of prisons. And finally when Muslims of South East Asia got the freedom, right prevailed and falsehood surrendered. And the chains of slavery collapsed!

Nature has gifted Pakistan with every kind of wealth and blessings. We have abundance of streams, rivers and lakes which are irrigating our lands. We have skillful, lusty and ambitious Pakistani youths. We have best in the world Pakistani army and war strategists. Wheat, cotton, oil and rice, everything is grown in Pakistan which is exported as well. Pakistan has rich depository of minerals such as salt, coal, kerosene oil, gypsum and zamarud stones. Research work is in progress and Insha Allah there will be a day when we will also be self-sufficient in oil as well.

Pakistan is now taking part in international affairs and willing for friendship with its neighbor countries. Pakistan is seeking trading and cultural relationships with other countries. Special settlements are being considered with Islamic countries; and Pakistan is eager to build relationships with any country that is endeavoring for peace and prosperity.

Pakistan believes in peace but still it is our duty to hold enough strength for defending our motherland. By the grace of ALLAH, Pakistan is an atomic power today. May ALLAH make every Pakistani more loving to this country.

AMEEN!

14 August Written Urdu Speech:
۴۱ اگست ۷۴۹۱
جنابِ صدر اور میرے ہم وطنو!

ہمارا وطن پاکستان وہ وطن نہیں جو وراثت میں اس کے بسنے والوں کو ملا ہے بلکہ پاکستان کی بنیادیں استوار کرنے کے لیے متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کی ہڈیاں اینٹوں کی جگہ اور خون پانی کی جگہ استعمال ہوا ہے۔

اتنی گراں قدر تخلیق کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جس نے تعمیرِ پاکستان میں تن من دھن ، بیوی بچے، بہن بھائی ، عزیز و اقارب قربان کیے۔ حصولِ پاکستان کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ کتنی ماو ¿ں کے سامنے ان کے بچے قتل کر دیے گئے۔ کتنے بے بسوں کے سامنے ان کے خاندان کو مکانوں میں بند کر کے نذرِ آتش کر دیا گیا اور وہ بے چارے دل پکڑ کر رہ گئے۔ کتنی پاکدامنوں نے نہروں اور کنوو ¿ں میں ڈوب کر پاکستان کی قیمت ادا کی۔ بے شمار بچے یتیم ہوئے جو ساری عمر اپنے والدین کی شفقت کے لیے ترستے رہے۔

اس کی وادیاں اپنے اندر فردوس کی رعنائیاں لیے ہوئے ہیں۔ ہرے بھرے اور وسیع و عریض کھیت سونا اگل رہے ہیں۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ہمیں ہر قسم کی آزادی اور سامان آسائش و آرائش مہیا ہے مگر یہ کبھی نہ بھولیں کہ اس میں سلطان ٹیپو کا خون سرسید کی نگاہ دوربین اقبال کے افکار قائدِ اعظم کی جہدِ مسلسل اور دوسرے اکابرین کا ایثار بھی شامل ہے اور ان کا ایسا کرنے کا مقصد کیا تھا © © © © ©”ایک آزاد اور خود مختار اسلامی مملکت کا حصول“۔

۴۱ اگست ۷۴۹۱ وہ مبارک دن تھا جب مملکتِ خداداد پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔مسلمانوں کے اتفاق اور قائدِ اعظم کے خلوص کی وجہ سے یہ عظیم سلطنت وجود میں آئی۔ ہندوو ¿ں نے طرح طرح کی مکاریوں سے پاکستان کی مخالفت کی۔ انگریزوں نے بھی بہت رکاوٹیں پیدا کیں۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ پاکستان بن کر رہنا تھا اور بن کر ہی رہا۔ اس وقت مسلمانوں کا یہی نعرہ تھا کہ © ©”لے کے رہیں گے پاکستان ۔ بن کے رہے گا پاکستان۔“
دشمنوں نے قائدِ اعظم کی اس تجویز کی تضحیک میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا چونکہ ہمارا مطالبہ پاکستان کا حصول حق و صداقت پر مبنی تھا اور حق وہ ہوتا ہے جو اپنے آپ کو منوا لیتا ہے۔ حقیقت اپنے آپ کو جلد یا بدیر اگر نہیں منوا سکتی تو حقیقت نہیں ہوتی اور اگر منوا لے تو یہ حقیقت ، حقیقت ہوتی ہے اور اس کے وجود و نمود کے سامنے دشمنوں کے ناپاک عزائم خاک میں مل گئے اور آج پاکستان اپنی عظمت کو دنیا میں تسلیم کروا چکا ہے۔

میرے عزیز ہم وطنو!
ہمیں پاکستان سے محبت ہے اس کے بانی سے عقیدت ہے اس کے مصور سے دلی لگاو ¿ اور ان مجاہدین کے لیے ہمارے پاس مغفرت کی دعائیں ہیں۔ جنہوں نے اس کے لیے قربانیاں دیں۔ جنہوں نے تاجِ برطانیہ کے خلاف اپنے گھر بار قربان کر دیے۔ اپنی اولاد کی پروا نہ کی اور سلاسل و زنداں کی سختیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا نتیجہ یہ ہوا کہ جب آزادی کے جذبہِ فراواں سے تمام ہندی مسلمان سرشار ہو گئے تو زنداں کی دیواریں لرز گئیں۔ فرنگی استعمار سجدہ ریز ہو گیا اور غلامی کی زنجیریں موئے آتش کدہ بن گئیں۔

جب اس انگارہ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پُر روح الامیں پیدا

قدرت نے پاکستان کو ہر نعمت سے نوا زا ہے۔ دریاو ¿ں ندی نالوں کی افراط ہے جن سے چپہ چپہ زمین سیراب و آباد کی جا رہی ہے۔ اس ملک کے نوجوان تنو مند، حوصلہ مند اور
ہنر مند ہیں۔ تجارتی صنعتی اور زرعی میدان میں خوب ترقی کر رہے ہیں۔ جنگی مہارت میں بھی دنیا کے بہترین ماہرین شامل ہیں۔ یہاں پر گیہوں، کپاس، تیل نکالنے کے بیج اور چاول کثرت سے ہوتے ہیں جو ایکسپورٹ بھی ہوتے ہیں۔ معدنیات کا ذخیرہ بھی موجود ہے مثلاََ نمک، مٹی کا تیل، کوئلہ اور سیمنٹ بنانے کا پتھر جپسم اور زمرد کے ذخائر بھی دریافت ہو چکے ہیں۔ مزید تحقیق جاری ہے۔ وقت آئے گا جب ہم تیل میں بھی انشاءاللہ خود کفیل ہو جائیں گے۔

بین الاقوامی معاملات میں بھی پاکستان بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے۔ اپنے ہمسایوں سے دوستی کا خواہاں ہے۔ دوسرے ملکوں سے تجارتی اور ثقافتی تعلقات بڑھائے جا رہے ہیں۔ اسلامی ممالک سے خاص طور پر معاہدے کیے جا رہے ہیں اور ہر اس ملک سے دستِ تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہیں جو امن کے لیے کوشاں ہیں۔ ہم پُر امن رہنے کے لیے یقین رکھتے ہیں مگر اپنی حفاظت کے لیے اپنی قوت کو بھی قائم رکھنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ الحمداللہ آج پاکستان ایٹمی قوت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر پاکستانی کو اس ملکِ عزیز سے مزید محبت کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین ثم آمین)

speech on 14 august in urdu for students with poetry speech on 14 august in urdu for students with poetry Reviewed by Walliam Marry on 5:27 AM Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.