نومسلم دوشیزہ نے اسلام کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردیا لیکن ایک مولوی نے اس کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ پڑھیے دل دہلا دینے والی داستان


  انسان جب خدا کی خدائی کا قائل ہوجاتا ہے تو پھر لاکھ مصائب والم آئیں وہ اپنے محبوب کی محبت میں گرفتار ہوکر سبھی مصائب کو نہایت ہی خوش اسلوبی سے جھیل جاتا ہے کیوں کہ ان کا تعلق باالراست خدا سے ہوتا ہے دنیا کی مصیبتیں ان کا کچھ نہیں بگاڑ پاتیں ان کے پاؤں توحید پر جمے رہتے ہیں۔ صحابہؓ کی تاریخ سے لے کر آج تک لاکھوں واقعات بکھرے پڑے ہیں کہ ان کو دنیا کی ستم نے ان کے پاؤں میں ذرا بھی لغزش پیدا نہ ہونے دی اور وہ اپنے توحید پر ڈٹے رہے ۔
 عشق رسول اور عشق خدا سے سرشار ایک نومسلم دوشیزہ کی روح فرسا داستاں جو بھوپال شہر کے پنڈت اور متمول گھرانے سے تعلق رکھنے والی گیتا شرما (بدلا ہوا نام) کا ہے ۔ راقم نے جب انسے سوال کیا کہ آپ کس طرح ایمان لائے اور کن کن مصائب سے دوچار ہوئیں تو انہوں نے جو انکشاف کیا وہ دل کو خون کے آنسو رلانے کے لیے کافی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔ میرا نام گیتا شرما ہے(بدلا ہوا نام) میں ایک پنڈت گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں میں نے BBAاور MBAسکنڈ سال کیا ہے میرے خاندان کے لوگ بہت ہی اچھے تھے، پاپا کا بزنس تھا وہ شراب کے ٹھیکہ چلاتے تھے، اور میں کوٹک مہندرا لائف انشورنش میں بطور ڈرائیور کام کرتی تھی۔ ہماری آفس میں کچھ دوست تھے جو مسلم گھرانے سے تعلق رکھتے تھے تھے ۔
 ہم لوگ پارٹی ڈسکو وغیرہ انجوائے کیاکرتے تھے کیوں کہ شہروں میں لڑکی اور لڑکے ایسے ہی رہتے ہیں اور میں ایک بہت بڑے بزنس مین کی بیٹی تھی تو ہمارے یہاں یہ بات معیوب بھی نہیں تھی ۔ 2013ء کی بات ہے جب اس سال رمضان آیا اور مجھے اس سے پہلے پتہ نہیں تھا کہ رمضان کیا ہوتا ہے۔ میں نے رمضان المبارک میں ایک پارٹی رکھی اور اپنے دوستوں کو بھی بلایا جس میں سمرین، عائشہ، اور ذوالفقار ، عمران شعیب یہ تمام مسلمان دوست نہیں آئے۔ اور میں نے دیکھا کہ تمام لڑکیاں برقعے میں آنے لگی، اور لڑکے ٹوپی لگانے لگے تو میں نے کہاکہ تم لوگ پاگل ہوگئے ہو کیا؟ تو ان انہوں نے بتایاکہ یہ ہمارے اللہ کا سب سے پاک مہینہ ہے، اس میں ہم ہر وہ کام سے دوری اختیار کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کرنے کو منع فرمایا ہے۔ اب مجھے غصہ آگیا اور کہا تم کچھ کھاؤگے بھی نہیں اس مہینے میں ہمارے ساتھ تو میں کیا کھاؤں گی اکیلے ؟ میں بھی روزہ رکھوں گی۔ میں نے بھی تین روزے سے روزہ رکھنا شروع کردیا اس وقت یہاں برسات ہورہی تھی ہم لوگ سب ساتھ میں روزہ رکھتے تھے صبح مجھے فون کرکے میرے مسلم دوست اٹھادیتے، صحری کراتے شام کو افطاری ۔ ہم کبھی ان کے گھر میں یا کبھی ہوٹل میں افطاری کرتے۔ میں اللہ اور اس کے نبیﷺ کی باتوں کو سنتی رہتی میں گاڑی بھی چلا رہی ہوتی تو کان میں اےئرفون لگا کر اسلامی بیانات سے اپنے دل کو منور کرتی رہتی۔ اسی وقت سے اللہ نے مجھے چن لیا میرے گھر والوں کو شک ہونے لگا کہ میں شلوار سوٹ اور نقاب باندھنے لگی ہوں، میرے فون کی رنگ ٹون بھی اللہ کے نام کی نظم ہوگئی تھی۔ ایک دن میری بہن اور اور بہنوئی آئے مجھے لے کر مندر گئے میں نے صاف منع کردیا اندر جانے سے اور پوجا کرنے سے وہ گھر آکر بہت ڈانٹے اور گھر میں ہنگامہ برپا ہوگیا امی ابو کہنے لگے کہ یہ کوئی مسلمان لڑکے سے پیار تو نہیں کربیٹھی ۔۔۔میں اپنے گھر کی مصیبت بنتی جارہی تھی سب لوگ پریشان رہتے مسلمانوں کی غلط چیزوں کو دکھاتے، مسلمانوں سے متنفر کرنے کے لیے آتنک وادیوں کی کلپ بتاتے پتہ نہیں اور کیا کیا مجھے دکھاتے تاکہ میں اسلام سے متنفر ہوجاؤں ۔ لیکن میرے دل میں تو خدا کی محبت رچ بس گئی تھی ایک دن مجھے قرآن پاک دیکھنے کی دل میں خواہش پیدا ہوئی میں پاس کی ایک مسجد میں گئی جہاں میں نے کلام پاک مانگا اور اسے بائیں طرف سے دیکھنے لگی انہوں نے کہاکہ یہ کیا کررہی ہو یہ طریقہ صحیح نہیں ہے ۔ اسی وقت میں نے اس دکاندار سے اپنے دل کی بات سچ سچ بتادی اس وقت انہوں نے مجھے ایک آپا جی کا نمبر دیا جو قرآن پڑھاتی تھی،
 پھر میں ان کے وہاں گئی اور اس وقت میں اپنی کار سے گئی تھی ابو اور بھائی میرے پیچھے پیچھے تھے لیکن مجھے پتہ نہیں تھا ،میں کار سے اتر نے لگی تو میں نے کار کی کانچ میں دیکھا کہ پیچھے ابو ہیں تو میں نے باجی کو دور سے اشارہ کرکے روک دیا ۔ پاپا مجھے وہیں مارنا شروع کردئے اور مجھے لے کر گھر آگئے۔ اسی دن میں نے یہ طے کرلیا کہ جب میں نے غلط کیا تو کسی نے نہیں روکا اور آج میں کچھ اچھا کرنے جارہی ہوں تو سب روک کیوں رہے ہیں؟ میں نے خدا سے اپنی محبت کا اعلان کر ہی دیا ۔ رمضان کے آخری روزے کے دن میں نے اسلام قبول کرلیا ۔ ابو نے میرا موبائل فون چھین لیا اور مجھے بہت کچھ کہا میں نے بھی کہہ دیا کہ میں اس اللہ سے اور اس کے نبیﷺ سے محبت کرتی ہوں آپ کو جو بھی کرنا ہے تم کرلو میں دین حنیف سے پھر نہیں سکتی پھر میں نے اللہ سے دعا کی اور روتے روتے میں چھت پر چلی گئی وہاں میں دیکھتی ہوں کہ آسمان میں کعبہ شریف میرے سامنے ہے ایسا منظر تھا کہ میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتی وہ کیا منظر تھا اور ایسے کئی دیگر چمتکار ہونے لگے مثلاً میں جو نیت کروں اللہ اسے پوری کردیتے تو میں نے آخری بار اللہ سے دعا کی کہ اگر میں تجھے پا نہیں سکتی تو تیرے پاس ہی آجاناچاہتی ہوں ۔ میں نے رات چار بجے کے قریب بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر ہارپک تیزاب پی لیا اور پھر کیا ہوا ایمبولینس آئی اور مجھے پاس کے ہاسپٹل میں ایڈمٹ کیا ابو نے ڈاکٹر کی باہر سے ٹیم بلوا لی کہ مجھے کسی بھی طرح کسی بھی حال میں بچا لیا جائے ڈاکٹر نے بھی تھوڑا گھبرا رہے تھے میرا کیس لینے سے ۔ میرے گلے سے پیٹ تک پورا اندر سے جل گیا میرے آنت کی ایک پائپ خراب ہوگئی۔ 19دن تک آئی سی یو میں رہی اور پھر باہر آئی میں خدا کی قدرت سے بچ گئی تھی اس وقت بھی میں اپنے منہ سے صرف اللہ اللہ کہتی رہی اور ابو مجھے سمجھاتے رہے انہوں نے کئی تانترک کو لے آئے اور گھر میں پوجا کروائی میں ہاسپٹل میں آئی سی یو سے نکل کر پرائیوٹ روم میں آگئی تھی وہاں سے میں اپنے لیپ ٹاپ میں نیٹ سے سرچ کرتی رہی پھر مجھے میرے فیس بک دوست نے کھتولی کے عبدالقدیر بھائی کا نمبر دیا میں نے ان سے رابطہ کیا اور ان سے کہاکہ مجھے آنا ہے پھر میں نے کہاکہ میں یہاں سے تین دن میں ڈسچارج ہوجاؤں گی انہوں نے میرے لیے اے سی ٹکٹ بک کروایا میں اپنے گھر میں بہت برا محسوس کرتی تھی مجھے گھٹن سی محسوس ہوتی تھی پھر میں گھر سے مکمل طور پر ناطہ توڑنے کا فیصلہ کرلیا اور وہاں سے بھاگ گئی اور میں نے بھوپال سے اے سی کوچ میں بیٹھ گئی، اور میں حضرت نظام الدین پہنچ گئی، وہاں مجھے شاہنواز اور قدیر بھائی لینے آئے وہ مجھے لے کر مظفر نگر کے پاس کھتولی گاؤں لے گئے وہاں آکر میں نے ان کے گھر والوں کو اپنے ساتھ پیش آئے واقعات سے بتائے اور بہت جلد جلد اسلام سیکھنے لگی میں نے قرآن پاک انگلش میں اور ہندی میں پڑھ لیا کافی عورتیں مجھے دین سکھاتی تھیں میں دن بھر وہاں رہ کر کتابیں پڑھتی میں نے وہاں بہت ہی قلیل مدت میں بہت کچھ سیکھ گئی۔ پھر حضرت مولانا کلیم صاحب صدیقی کے بارے میں مجھے بتایاگیا میں نے کہاکہ یہ کون ہیں میں ان سے ملنا چاہتی ہوں عبدالقادر بھائی نے کہاکہ ان سے ملنا آسان کام نہیں ہے میں نے کہاکہ ٹھیک ہے انشاء اللہ میں کہتی ہوں کہ میں ان کے پاس نہیں بلکہ وہ خود میرے پاس آئیں گے ۔ سبھی نے میرا مذاق اڑایا پر اللہ میرے دل کا حال جانتا تھا پھر عبدالقادر بھائی نے مجھے ایک کمرہ دیا میں وہاں دو مہینے رہی اور میں نے حضرت بلال کا قصہ سن رکھا تھا کہ ان سے کوئی شادی نہیں کرتا ہے تو اللہ کے محبوب کہتے ہیں حضرت بلال جنتی ہے ۔ جب میرا رشتہ آیا تو میں نے نکاح کے لیے بنا دیکھے ہی ہاں کردی تھی اور کہا کہ قدیر بھائی آپ جو بھی کریں گے اچھا ہی کریں گے پھر حضرت مولانا کلیم صاحب صدیقی عبدالرحمن (دھان سنگھ ) کا رشتہ لے کر مجھ سے خود ملنے کھتولی آئے ۔اور میرانکاح جمعہ کے دن عصر کے وقت بتاریخ13.12.13کو ہوا۔ حضرت نے ہی نکاح پڑھایا، پھر مجھے رخصت کیاگیا ۔ مجھے ماں باپ سے دور ہونے پر اتنے آنسو کبھی نہیں آئے جتنا آنسوقدیر بھائی اور بھابھی سے دور ہونے پر آرہے تھے۔ عبدالرحمن سے میرا نکاح ہوئے تین ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ ان کے دل میں پیسوں کی لالچ آئی انہیں یہ علم ہوگیا تھا کہ میں ایک مالدار اور صاحب ثروت گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں لہذا وہ مجھے ہراساں کرنے لگے اور میں انہیں لے کر اپنے آبائی وطن بھوپال آگئی وہاں میرے
نومسلم دوشیزہ نے اسلام کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردیا لیکن ایک مولوی نے اس کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ پڑھیے دل دہلا دینے والی داستان نومسلم دوشیزہ نے اسلام کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردیا لیکن ایک مولوی نے اس کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ پڑھیے دل دہلا دینے والی داستان Reviewed by Walliam Marry on 7:22 PM Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.