مراد علی شاہ اور قائم علی شاہ کی اکٹھی گرفتاری ۔۔۔ خبر سندھ میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، پیپلز پارٹی میں ہلچل


  راولپنڈی(نیوز ڈیسک ) نیب راولپنڈی نے جعلی اکاؤنٹ کیس، ٹھٹھہ اور دادو شوگر مل فروخت کا معاملہ میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے خلاف انکوائری انوسٹی گیشن میں تبدیل کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین نیب نے انکوائری کوانوسٹی گیشن میں تبدیل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ نیب کے مطابق ونوں شوگر ملز کوڑیوں کے بھاؤ اومنی گروپ کو بیچی گئیں۔اس حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ پنے بیانات نیب میں ریکارڈ کروا چکے ہیں جبکہ اومنی گروپ کے تمام عہدیداروں سے بھی نیب تفتیش مکمل کی جا چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق عید کے بعد مراد علی شاہ اور قائم علی شاہ کی گرفتاری کا امکان ہے اس کے علاوہ اومنی گروپ کے عہدیداروں کی بھی گرفتاری کا امکان ہے۔اس سے پہلے وزیر اعلیٰ سندھ کو 4 جنوری کودریائے ملیر کی زمین کے کیس میں بھی نیب نے طلب کیا تھا جس کی تحقیقات جاری ہیں۔دریائے ملیرکی زمین کو کم قیمت پر اومنی گروپ کو بیچنے پر نیب نے مراد علی شاہ اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ دونوں کو طلب کیا تھا اور اس حوالے سے کیس ابھی چل رہا ہے ۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت پہلے ہی وزیراعلیٰ سندھ سے استعفیٰ مانگ رہی ہے 
اور اب ان پر اس حوالے سے دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ مراد علی شاہ پر24.9 ارب روپے کی خرد برد کا بھی کیس چل رہا ہے اس حوالے سے ان پر کیس ہے کہ جب وہ سندھ کے وزیر خزانہ تھے تو انہوں نے اومنی گروپ کے ساتھ مل کر عوام سے 24.9 ارب روپے کا فراڈ کیا، اس کیس کی بھی تحقیقات چل رہی ہیں۔فروری میںسعودی عرب میں موجودپاکستان کو انتہائی مطلوب اوپنی گروپ کی اعلی شخصیت کو گرفتار کیا گیا تھا، منی لانڈرنگ کیس میں مطلوب اومنی گروپ کے سابق چیف فنانس آفیسر اسلم مسعود کو سعودی عرب سے ڈی پورٹ کرکےپاکستان واپس بھیجا گیاتھا جنہیں ایف آئی اے نے اسلام آباد ائیرپورٹ پر گرفتار کر لیا۔ اب عید کے بعد مراد علی شاہ اور قائم علی شاہ کی گرفتاری کا امکان ہے۔
مراد علی شاہ اور قائم علی شاہ کی اکٹھی گرفتاری ۔۔۔ خبر سندھ میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، پیپلز پارٹی میں ہلچل مراد علی شاہ اور قائم علی شاہ کی اکٹھی گرفتاری ۔۔۔ خبر سندھ میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، پیپلز پارٹی میں ہلچل Reviewed by Walliam Marry on 10:05 PM Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.